رینے ڈیکارٹ کی میڈیٹیشن سے اقتباس

میں ڈیکارٹ ہوں! کیا میں ڈیکارٹ ہوں؟ مجھے کیسے معلوم ہوا کہ میں دیکارٹ ہوں؟ آخر کسی بھی چیز کا علم ممکن کیسے ہوتا ہے؟ اوہو! میں پھر اس جھنجھٹ میں پھنس گیا۔ کیوں نہ میں ایک ہی دفہ اس مسئلہ کوحل کردوں تاکہ پھر دوبارہ میں ان سوالات میں نہ پھنسوں ۔
اس کا ایک بہترین حل یہ ہوگا کہ میں ایک ہی دفہ اپنے ہر عقیدے، علم اور تصورات پر شک کروں۔ اگر اس میں کوئی بھی چیز شک سے بالاتر ہوگی تو سامنے آجائے۔ تو چلو دیکھتے ہیں کہ ایسی کونسی بات ہے جو بالکل یقینی ہے اور اس پر شک نہیں کیا جاسکتا۔
اپنی ذات سے شروع کرتا ہوں۔ ایسی کوئی بات ہے اپنی ذات کے بارے میں جس پر میں شک نہیں کر سکتا۔ بظاہر توایسا لگتا ہے کہ میں اپنی ذات سے جڑی ہر چیز پر شک کر سکتا ہوں۔ جیسے یہ ممکن ہے کہ میرا جسم نہ ہو، نہ ہاتھ، نہ آنکھیں، نہ ٹانگیں۔ کیونکہ اگر دیکھا جائے تو خواب میں بھی ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے حواس تجربہ کر رہے ہیں جبکہ یہ سب ہمارے ذہن کی پیداوار ہوتا ہے۔ لہذا یہ بات تو یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ جو تجربہ مجھے ابھی ہو رہا ہے وہ بھی حقیقی ہو۔ ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ کوئی شریر شیطان ہو جو مجھے اس طرح کے جھوٹے تجربے کا دھوکا دے رہا ہو کہ میں دیکھ رہا ہوں، سن رہا ہوں یا یہ کہ میرے ہاتھ ہیں اورمیرا جسم ہے ۔ ہوسکتا ہے حقیقت میں ایسا کچھ نہ ہو۔ اور وہ شریر شیطان مجھے دھوکا دے رہا ہو۔ لہذا میرے پاس یہ ماننے کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ میں جسم رکھنے والا اور حواس کے ذریعے تجربہ کرنے والی کوئی شے ہوں۔ تو اگر میرا جسم نہیں ہے، کیا اس کا مطلب ہے کہ میری ذات بھی وجود نہیں رکھتی؟
نہیں۔
کیونکہ یہ جو میں سب سوچ رہا ہوں اس کا مطلب ہے میں کچھ ہوں جبھی تو سوچ رہا ہوں۔
لہذا میں اس بات پر شک نہیں کر سکتا کہ ’میں‘ ہوں
لیکن میں کیا ہوں؟
ہاں! مجھے جواب مل گیا۔ میں سوچنے والی ہستی ہوں کیونکہ چاہے میں کتنا ہی شک کر لوں میں کبھی بھی اس بات پر شک نہیں کر سکتا ہے کہ میں سوچ رہا ہوں۔ کیونکہ اگر میں اپنے سوچنے پر شک کر رہا ہوں اس کا مطلب ہے کہ میں دراصل سوچ ہی تو رہا ہوں کیونکہ شک کرنا بھی ایک قسم کے سوچنے ہی کا عمل ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ میں کوئی’ذہن‘ ہوں۔