کیا ہم خواہشات کی مشین ہیں؟

روایاتی طور پر انسان کی پہچان اس کی بایولوجی کی بنیاد پر متعین ہوتی ہے۔ جیسے ہم بایولوجی کی بنیاد پر انسان کو مرد اور عورت میں تقسیم کرتے ہیں۔ لیکن فرانسیسی فلسفی ڈیلوز کے مطابق اس طرح انسان کی پہچان کو طے شدہ نظریات کی بنیاد پر متعین کرنے سے ہم انسان کو محدود کردیتے ہیں۔ کیونکہ جب ہم انسان کو مرد اور عورت کے طور پر پہچانتے ہیں تو معاشرہ میں پہلے ہی سے ان کے کردار متعین ہوجاتے ہیں کہ مرد اور عورت کو کیسا ہونا چاہیئے، انہیں کیا کرنا چاہیئے اور کیا نہیں کرنا چاہیئے وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے ڈیلوز کے خیال میں ہمیں انسان کو اس کی بایولوجی کے بجائے اس کی خواہشات کی بنیاد پر سمجھنا چاہیئے۔ کیونکہ ڈیلوز یہ مانتا تھا کہ انسان بنیادی طور پر خواہشات کی مشین ہے۔ انسان کے اندر ہر وقت خواہشات پیدا ہوتی رہتی ہیں پیسے کی خواہش، عورت کی خوہش، لذت کی خواہش وغیرہ اور انسان مستقل اپنی ان خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہیں۔

ڈیلوز بنیادی طور پر ایک پوسٹ موڈرنسٹ مفکر تھا۔ پوسٹ مووڈرن ازم مغربی فلسفے میں اٹھنے والی ایک تحریک تھی جس نے موڈرنیٹی کے انسانی تہذیب و ثقافت، زبان اور تاریخ کے حوالے سے پیش کردہ تصورات کی سخت تنقید کی تھی۔ ڈیلوز کے مطابق حقیقت لامحدود امکانات پر مبنی ہوتی ہے اور جب ہم اشیاء کی تعریف متعین کرتے ہیں تو اس طرح ہم حقیقت کو محدود کر دیتے ہیں۔

خواہشات کے بارے میں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کسی چیز کا نہ ہونا ہمارے اندر اس چیز کی خواہش کو پیدا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر میرے پاس پیسے کی کمی ہو تو میرے اندر پیسے کی خواہش پیدا ہو جائے گی۔ لیکن ڈیلوز ہمیں بتاتا ہے کہ ایسا نہیں کہ کسی چیز کی کمی ہمارے اندر اس چیز کی خواہش کو پیدا کرتی ہو بلکہ ہمارے اندر جو کمی کا احساس جنم لیتا ہے وہ بھی خواہشات کے ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ اس بات کو ایک خیالی تجربے سے سمجھتے ہیں: فرض کریں کہ ہمارے اندر سے ہماری ساری خواہشات ختم کر دی جائیں تو کیا ہمیں کسی چیز کی کمی کا احساس ہوگا؟ ڈیلوز کے خیال میں ہمیں کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہوگی کیونکہ ہماری خواہشات ہی ہمارے اندر کمی کا احساس پیدا کرتی ہیں لہذا جب ہمارے اندر خواہشات ہی نہیں ہونگی تو پھر ہمیں کسی قسم کی کمی کا احساس بھی نہیں رہےگا۔ اس بات کو ایک مثال کے ذریعے سے بھی سمجھا جا سکتا ہے، مثال کے طور پر اگر میری خواہش ہو کہ میں دنیا کی سیر کروں تو میری یہ خواہش میرے اندر ایک کمی کا احساس پیدا کر دےگی۔ لیکن اگر مجھے دنیا گھومنے کی خواہش ہی نہ ہو تو میرے اندر کسی قسم کی کمی یا محرومی کا احساس بھی نہیں ہوگا۔ لہذا ڈیلوز کے مطابق یہ کہنا غلط ہے کہ محرومی کا احساس خواہشات کو جنم دیتا ہے بلکہ کمی کا احساس بھی خود خواہشات کا پیدا کردہ ہوتا ہے۔

Photo by Jose Francisco Fernandez Saura on Pexels.com


اس کے علاوہ ہم عام طور پر یہ بھی مانتے ہیں کہ اگر کوئی شخص خواہش کر رہا ہے تو یہ اس شخص کی ذات ہے جو خواہش کرتی ہے۔ یعنی کوئی فرد ہے جو اپنی مرضی سے خواہشات کرتا ہے اور خواہشات اس کے قابو میں ہیں۔ لیکن اگر ہم غور کریں تو خواہشات میں آپس میں کوئی یکسانیت نہیں ہوتی۔ کوئی بھی خواہش کسی بھی وقت آجاتی ہے۔ انسان کے ذہن میں عجیب و غریب خواہشات بھی اُبھرتی ہیں جس کا اس انسان کے ماضی یا پس منظر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اسی لیئے ڈیلوز یہ سمجھتا ہے کہ فرد خواہش نہیں کرتا بلکہ فرد خود خواہشات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ڈیلوز کے خیال میں ہم محض ایک مشین ہیں جس میں ہر وقت خواہشات پیدا ہونے کا عمل چلتا رہتا ہے۔ اور ہمارا جو اپنی ذات کا احساس ہے کہ ہم ایک فرد ہیں اور ہم اپنی مرضی سے خواہش کرتے ہیں یہ محض ایک احساس ہے جو خواہشات کی مشین پیدا کرتی ہے۔

ہم روزمرہ زندگی میں بہت سی خواہشات کو ناجائز سمجھ کر ان سے لاتعلق ہو نے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم اپنی ہی خواہشات کا انکار کرنا شروع کردیتے ہیں اور ان کو قابو کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈیلوز کے خیال میں یہ پاگل پن ہے۔ ہمارا معاشرہ اورعام دنیا پیرانوئڈ ہوتی ہے۔ کیونکہ اس میں ہم اپنی ہی خواہشات کا انکار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ہم اپنے اندر جو خواہشات رکھتے ہیں انہیں چھپاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اصل میں یہ ہماری خواہشات نہیں ہیں اور صرف ان خواہشات کو اپنا سمجھتے ہیں جو ہمارے معاشرے، مذہب اور ہمارے پس منظر کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں۔

میں کون ہوں؟
میں وہی ہوں جو میں خواہش کرتا ہوں۔ انسان کی خواہشات ہی اس کی شخصیت ہوتی ہیں۔ یہ خواہشات نہ ہوں تو انسان کی شخصیت بھی وجود نہ رکھے۔ میری خواہشات ہی میری پہچان ہے۔ خواہشات کی سطح پر انسان کی کوئی ایک مخصوص پہچان نہیں ہے۔ خواہشات چونکہ مستقل تبدیل ہوتی رہتی ہیں اس لیے کسی انسان کو ایک مخصوص خواہش کے ساتھ جوڑنا ممکن نہیں ہے۔ بلکہ انسان کی کئی شخصیات ہیں جو الگ الگ خواہشات رکھتی ہیں۔ میں جس وقت جو خواہش رکھتا ہوں وہی میری پہچان ہے۔ مجھے اپنی خواہشات کو تسلیم کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ میری خواہشات ہی میری حقیقت ہیں۔ کوئی خواہش اچھی بری نہیں ہوتی۔ جو بھی خواہش ہے، جیسی بھی خواہش ہے میری خواہش ہے۔ مجھے کچھ خواہشات کو برا سمجھ کر ان سے لا تعلقی اختیار نہیں کرنی چاہیئے۔ بلکہ انہیں اپنا سمجھ کر قبول کرنا چاہیئے۔

One comment

Leave a comment